6000والا سکول ڈیسک29000 میں خریدے جانے کا انکشاف ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا خط میں تہلکہ خیز انکشاف

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے سوال اٹھایا ہے کہ سکولوں میں6000روپے کے ڈیسک 23ہزار 985 روپے میں خریدے جارہے ہیں، قومی خزانے کو 3.3 ارب روپے کا نقصان پہنچے گا۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے وزیراعلی سندھ سید مراد شاہ کو خط لکھا، جس میں بتایا گیا کہ محکمہ تعلیم قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا رہا ہے۔ خط کے مطابق اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی

ڈپارٹمنٹ نے 10 جون 2021 کو اسکولوں میں ڈیسکوں کی سپلائی اور ڈیلیوری کیلئے چار ٹھیکے دیئے، جن کی مالیت پانچ ارب روپے ہے۔ ایک ڈیسک کی قیمت 23 ہزار 985 روپے سے 29 ہزار 500 روپے بشمول ٹیکس کے درمیان رکھی گئی۔ٹی آئی پی نے بتایا کہ دو سال قبل 17 فروری 2019 کو بھی ایسا ہی ٹھیکا جاری کیا گیا تھا۔ آنے والی بولیوں میں ایک ڈیسک کی زیادہ سے زیادہ قیمت

6000 روپے سے 6860 روپے بشمول ٹیکس تھی۔ محکمے نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر کم قیمت پر ٹھیکہ نہیں دیا۔6000 روپے کی ڈیسک 23 ہزار 985 روپے میں خریدی جارہی ہے، قومی خزانے کو 3.3 ارب روپے کا نقصان پہنچے گا۔ اگر قیمتوں میں سالانہ 10 فیصد اضافے کا خیال بھی ذہن میں رکھا جائے تو ڈیسک کی قیمت 9 ہزار روپے بنتی ہے۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا کہ اسکول

ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ کے افسران کیخلاف اور ٹھیکے داروں کیخلاف کارروائی کی جائے۔ متعدد بار خط لکھے کہ الزامات کا جائزہ لیا جائے۔ بے ضابطگیوں میں ملوث حکام کیخلاف کارروائی کی جائے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *