سی پیک معاملے پر چین پاکستان سے ناخوش، قائمہ کمیٹی میں تہلکہ خیز انکشاف

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی و ترقی میں انکشاف ہوا ہے کہ سی پیک پر تین سال سے کام رکا ہوا ہے اور چین پاکستان سے خوش نہیں ہے کمیٹی میں انکشاف ہوا کہ تمام کمپنیاں عدم اعتماد کر رہی ہیں معاون خصوصی برائے سی پیک نے چئیرمین کمیٹی نے کمیٹی کیمؤقف کی تائید کرتے ہوئے بتایا کہ اب چائینز کا اعتماد بحال کر رہے ہیں جلد سی پیک خطے کی ترقی کا اہم جزو ہوگا سینیٹر

سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ترقی و منصوبہ بندی کا اجلاس ہو اجلاس میں معاون خصوصی برائے سی پیک اور وزیر منصوبہ بندی نے کمیٹی کو بریفننگ دی معاون خصوصی نے کمیٹی کو بتایا کہ تھر میں غربت بہت زیادہ ہے اور وہاں سماجی ترقی کے منصوبوں کے تحت کام کیا جارہا ہے،سی پیک کے 53 ارب ڈالر منصوبے فیز ون میں شامل تھے،15.7ارب روپے

کے 21 منصوبے مکمل ہوچکے ہیں معاون خصوصی نے کمیٹی کو بتایا کہ بجلی، انفراسٹرکچر اور گوادر کی ترقی کے منصوبے پہلے فیز میں شامل منصوبے ہیں معاون خصوصی برائے سی پیک اتھارٹی کا کہنا تھا کہ سی پیک کے تحت سماجی ترقی کے اب تک 4 منصوبے مکمل ہوچکے ہیں سی پیک کے تحت بجلی کے 5320 میگاواٹ کے منصوبے مکمل کئے گئے ہیں وزیر منصوبہ بندی اسد

عمر کا کہنا تھا کہ ہوا سے بجلی مہنگی پڑے گی عوام نہیں خرید سکے گی،بلوچستان میں میدان ہیں لیکن ہوا کی بجلی مہنگی پڑے گی سینٹر دنیش کمار کا کہناتھا کہ بلوچستان کے حوالے سے تعصب کی عینک اتار کر بھی دیکھیں تو گوادر میں کوئی منصوبہ نہیں ہے جب سے سی پیک شروع ہوا ہے بلوچستان کو کچھ نہیں ملاسی پیک منصوبوں میں بلوچستان کے ساتھ زیادتی ہورہی ہیچئیرمن کمیٹی سلیم

مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ سی پیک پر تین سال سے کام رکا ہوا ہے چین پاکستان سے خوش نہیں تمام کمپنیاں عدم اعتماد کر رہی ہیں معاون خصوصی برائے سی پیک نے چئیرمین کمیٹی کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے بتایا کہ اب چائینز کا اعتماد بحال کر رہے ہیں جلد سی پیک خطے کی ترقی کا

اہم جزو ہوگا ۔معاون خصوصی نے کمیٹی کو بتایا کہ سی پیک کا پہلا مرحلہ تکمیل کے مراحل میں ہے دوسرے فیز میں داخل ہوچکے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.