عمران خان اب بھی مجھے بچہ سمجھتے ہیں ٗ چیئرمین پی سی بی سے کم عہدہ نہیں لوں گا

شعیب اختر پی سی بی میں چیئرمین کے سوا کسی عہدے پر کام کرنے کیلیے تیار نہیں

۔ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں سابق فاسٹ بولر نے کہا کہ میں نے ہمیشہ ٹاپ پر رہنے کا خواب دیکھا ہے،بورڈ میں بھی کسی عہدے پر کام کیا تو وہ چیئرمین کا ہوگا،اگر میرا پالیسی بنانے میں کوئی کردار نہیں تو کسی بھی پوزیشن پر کام کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔شعیب اختر کا کہنا تھا کہ اگر میں چیئرمین ہوا تو

اپنے سے بہتر ٹیم لاؤں گا، بہتر چیف ایگزیکٹیو کا انتخاب کروں گا، پی سی بی کو ایک کارپوریشن کی طرح چلاؤں گا، دنیا معیشت پر چلتی ہے، اسی انداز کا سسٹم لائیں تو معاملات آگے بڑھائے جا سکیں گے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس اچھے آل راؤنڈرز اور اسپنرز ہیں،البتہ مڈل آرڈر میں مسائل ہیں،مجھے یقین ہے کہ گرین شرٹس بھارت کو شکست دینے کے ساتھ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ بھی جیت

سکتے ہیں۔دوسری جانب روی شاستری نے عمران خان کو دنیا کے بہترین کپتانوں میں سے ایک قرار دیدیا۔اپنی کتاب ”اسٹار گیزنگ” میں سابق بھارتی کرکٹر اور موجودہ کوچ نے لکھاکہ اس بات کو ثابت کرنے کیلیے کسی چیز کی ضرورت نہیں، ریکارڈ گواہی دے رہے ہیں،جو بھی عمران خان کیخلاف کھیل چکا، وہ بطور کپتان، کھلاڑی اور آل رائونڈر ان کے قد کاٹھ کو جانتا ہے۔روی شاستری نے ایک

واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھا کہ انڈر25 ٹیم کیخلاف ایک میچ میں عمران خان ٹریفک مسائل کی وجہ سے تاخیر سے آئے اور فوری طور پر بولنگ شروع کرنا چاہتے تھے،بطور کپتان میں نے اعتراض کیا کہ قانون کے مطابق وہ ایسا نہیں کرسکتے، انھوں نے وسیم اکرم اور دیگر بولرز سے کہا کہ بائونسرز سے اس کا امتحان لو۔بعد ازاں شارجہ میں ایک انٹرنیشنل میچ کے دوران بھارت اچھی پوزیشن میں تھا

کہ مجھے کریمپس پڑ گئے،رنر منگوانے کیلئے کہا تو عمران خان نے انکار کردیا،مجھے اندازہ ہوگیا کہ کپتان ماضی کا واقعہ نہیں بھولے اور بدلہ اتار دیا،میں جلد ہی آئوٹ ہوگیا اور ٹیم اچھا ٹوٹل نہ بنا سکی،عمران خان میدان میں کسی کو معاف نہیں کرتے تھے، باہر بھی خاموش لیکن حریف کھلاڑیوں سے دوستانہ تعلقات رکھتے تھے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *