بیورو کریسی کی اکھاڑ پچھاڑ پر صف اول کے صحافی نے ٹھوس بات کہہ دی

لاہور  نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔افسروں کی تبدیلی صرف چہروں کی تبدیلی ہوتی ہے۔ اصل بات نظام کی تبدیلی ہے،وہ یہ تبدیلی سر کار بھی نہیں لا سکی، اس سرکار سے تو یہ بھی نہیں ہو سکا،افسروں کی گردنوں سے غرور کا سریا ہی نکال دے۔بیورو کریسی جتنی آج منہ زور اور طاقتور ہے، پہلے کبھی نہیں تھی،

شہباز شریف کے زمانے میں تو ہر گز نہیں تھی کیونکہ وہ سریا نکالنا جانتے تھے اور یہ کام اپنے دوروں میں اکثر کرتے رہتے تھے۔ پنجاب کے دفاتر میں آج بھی اُسی حکمرانی کا کلچر موجود ہے،جس میں عام آدمی کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی، افسران صبح سویرے دفتر آنا اپنی توہین سمجھتے ہیں اور اکثر کی صبح گیارہ بجے کے بعد ہوتی ہے۔ پھر دفتر آتے ہی وہ میٹنگ کا بازار سجا لیتے ہیں، تاکہ عوام سے بچا جا سکے۔میٹنگ ختم ہو جائے تو فائل ورک کی تکنیک استعمال کی جاتی ہے۔ دفتر کے باہر سائلین کا کتنا مجمع لگا ہوا ہے،اُس کی انہیں کوئی پروا نہیں ہوتی۔ڈپٹی کمشنر بہادر پورے ضلع کا مالک ہوتا ہے۔ سارے اختیارات اُسی کے گرد گھومتے ہیں،مگر حیرت ہے وہ خود اپنے دفتر میں موجود بدعنوانی ختم نہیں کر سکتا۔سب کچھ اُس کی ناک کے نیچے ہو رہا ہوتا ہے اور وہ اپنے ٹھنڈے کمرے میں بیٹھا حکمرانی کے مزے لوٹتا ہے۔سوال یہ ہے میانوالی کے ڈپٹی کمشنر کو لاہور لا کر اور کسی اور ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو میانوالی بھیج کر حکومت کیا نتائج حاصل کر سکتی ہے؟جو میانوالی میں ڈیلیور نہیں کر سکا وہ لاہور میں کیسے کرے گا؟ ملتان کے ڈپٹی کمشنر کو چند ماہ بعد ہی فیصل آباد بھیج دیا گیا ہے کیا اُس نے ملتان میں عوام کے لئے اچھی حکمرانی کی اعلیٰ مثال قائم کر دی تھی، جو اب وہ فیصل آباد میں کرے گا؟

ان تبادلوں پر ٹی اے ڈی اے کی مد میں قوم کا لاکھوں روپیہ اڑ جاتا ہے،حاصل وصول کچھ نہیں ہوتا۔جب تک سمت کا تعین نہیں کیا جائے گا، کوئی بہتری کیسے آ سکتی ہے۔ بزدار حکومت تو اپنے اس فیصلے پر بھی عملدرآمد نہیں کرا سکی کہ سرکاری افسران اپنے دفاتر کے دروازوں پر پہرے دار نہیں بٹھائیں گے، ملاقاتی جب چاہے ان سے مل پائے گا۔ آج بھی عام آدمی اپنے ضلع کے ڈپٹی کمشنر سے مل سکتا ہے اور نہ ڈی پی اے سے، جب تک اُس کی چٹ اندر نہ جائے اور اندر سے صاحب بہادر کا بلاوا نہ آئے۔ عوام سے دوری رکھنے والے یہ افسران کسی ضلع میں بھی چلے جائیں،ان کا رویہ بدلے گا اور نہ سٹائل۔ یہ تکبر و نخوت والی اُس حکمرانی کے دائرے میں گھومتے رہیں گے،جو ہمارے فساد کی جڑ ہے۔وزیراعظم عمران خان نے یہ شکوہ کیا ہے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے اچھے کام لوگوں کو نظر نہیں آتے، اچھے کام تو نظر آتے ہیں اور ان کی میڈیا ٹیم کام بھی بہت اچھا کر رہی ہے۔ بات کاموں کی نہیں،بلکہ گڈ

گورننس کی ہے۔یہ درست ہے پنجاب حکومت نت نئے منصوبے شروع کر رہی ہے،کچھ منصوبے پہلے سے جاری ہیں،لیکن ان ترقیاتی منصوبوں کا تعلق اُس گڈ گورننس سے نہیں،جو عوام کو چاہئے۔ پولیس کی نااہلی اور مجرمانہ غفلت قدم قدم پر نظر آتی ہے۔لاہور مینارِ پاکستان کا واقعہ اس کی تازہ مثال ہے۔پنجاب بھر میں ظلم کے روزانہ ہی واقعات سامنے آتے ہیں،جن کا وزیراعلیٰ عثمان بزدار نوٹس نہ لیں تو شاید اُن پر کوئی کارروائی بھی نہ ہو۔ لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے اور انہیں یہ یقین ہو چلا ہے انہیں اپنا تحفظ آپ ہی کرنا ہو گا،پولیس یا حکومت سے کوئی امید نہ رکھی جائے۔بری گورننس کا یہ حال ہے اب وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پورٹل پر کی گئی شکایات کو بھی کوئی نہیں سنتا۔وزیراعلیٰ پولیس مظالم کی رپورٹ آر پی او سے مانگتے ہیں اور کسی سرکاری افسر کی بری کارکردگی بارے رپورٹ کمشنر سے طلب کرتے ہیں۔بھلا چیل کے گھونسلے سے بھی کبھی ماس ملتا ہے یہ مان لینا چاہئے کہ سرکاری ملازمین کی کارکردگی جانچنے کا ہمارے پاس کوئی نظام موجود نہیں۔ہم نے دودھ کی رکھوالی پر بلے بٹھائے ہوئے ہیں اور توقع کرتے ہیں دودھ ملائی سمیت بچ جائے گا۔یہی وہ نظام تھا جس پر عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے بہت تنقید کیا کرتے تھے، اس میں تبدیلی لانے اور اسے عوام کے سامنے جواب دہ بنانے کے نسخے سمجھاتے تھے۔آج اُسی نظام کے تحت اپنی حکومت چلا رہے ہیں، تین سال کی کامیابی گنوانے میں وہ سب سے آگے ہیں،لیکن جو ناکامیاں قوم کا مقدر بنی ہوئی ہیں اُن کا ذکر وہ کبھی نہیں کریں گے۔دو دن پہلے وزیراعظم عمران خان نے لاہور میں خطاب کرتے ہوئے ایک اور بات بھی کی، انہوں نے انگریزی زبان کو سارے فساد کی جڑ قرار دیا،جس کی وجہ سے ہماری ثقافت،ہماری تہذیب، ہماری طرزِ حکمرانی اور ہماری قومی

حمیت کو بہت نقصان پہنچا۔انہوں نے اردو اور پاکستانی زبانوں کے حق میں بڑی اچھی گفتگو کی،مگر وہ ایک بات کہنا بھول گئے کہ ہماری بیورو کریسی اس لئے عوام کے دُکھ درد کو سمجھنے سے قاصر ہے اُس کی تربیت انگریزی زبان اور انگریزی ماحول میں ہوئی ہے۔ہم اچھی حکمرانی اِسی لئے نہیں دے سکے، ہمارے پاس جو سرکاری مشینری ہے اُس کی زبان بدیسی ہے،اُس کا ذہن نو آبادیاتی مزاج رکھتا ہے اور اسے تربیت وہی دی جاتی ہے جو انگریز برصغیر میں تعینات ہونے والے اپنے انگریز افسروں کو دیتے تھے، جس میں یہ نکتہ سمجھایا جاتا تھا انہیں غلاموں پر حکمرانی کرنی ہے اور غلاموں پر حکمرانی کرنے کا پہلا اصول یہ ہے، انہیں اچھوت سمجھا جائے اپنے سے دور ر کھا جائے۔ آج بھی ہماری بیورو کریسی اسی فارمولے پر تیار کی جاتی ہے۔ سی ایس ایس کر کے(جس میں سب سے زیادہ اہمیت انگریزی زبان پر عبور کو دی جاتی ہے)، جب ہمارے نوجوان سول سروس میں قدم رکھتے ہیں اور نیپا جیسے اداروں میں اُن کی تربیت شروع ہوتی ہے تو انہیں وہی کچھ پڑھایا سکھایا جاتا ہے،جو انگریز کا وضع کردہ ہے۔کہنے کو یہ سول سرونٹ ہوتے ہیں،مگر حقیقتاً ان کے اندر خوئے حکمرانی کوٹ کوٹ کر بھری جاتی ہے۔ پھر یہ اتنا طاقتور گروپ ہے، اچھے اچھے حکمرانوں کو ناکوں چنے چبوا دیتا ہے۔اس طرزِ حکمرانی میں صرف افسروں کو ایک جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ لگایا جا سکتا ہے،اس کے سوا ان کا بال بھی بیکا نہیں کیا جا سکتا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *