وزیراعظم عمران خان نے سمندر پار پاکستانیوں کو سب سے بڑا اثاثہ قرار دیدیا

وزیراعظم عمران خان نے سب سے بڑا اثاثہ سمندر پار پاکستانیوں کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بدقسمتی سے ہم ابھی تک اثاثے کا صحیح طور پر فائدہ نہیں اٹھا سکے،

ہمارا بہترین ٹیلنٹ باہر جانے کی بڑی وجہ ہم ملک میں کام کرنے کے مواقع فراہم نہیں کررہے تھے،جب تک ہماری برآمدات نہیں بڑھ رہی اس وقت تک بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ملک میں سرمایہ کاری کے لیے لایا جائے، جب وہ

ڈالر لے کر آئیں گے ہمارے زرِ مبادلہ کے ذخائر بڑھیں گے جس سے روپیہ مستحکم ہوتا جائے گا، مہنگائی اور غربت کم ہوتی جائے گی،ہماری سسٹم کو ٹھیک کرنے کی جنگ ہے،حکومت پر حملہ کرنے والے قانون کی بالادستی نہیں چاہتے،ہم قانون کی بالادستی کی جنگ لڑرہے، کوئی بھی ایسا ملک خوشحال نہیں ہے جہاں قانون کی بالادستی نہیں ،جیسے جیسے ملک میں قانون کی بالا دستی قائم ہوتی

جائے گی سمندر پار پاکستانی خود یہاں آ کر سرمایہ کاری کریں گے،، عید کی تعطیلات میں خیبر پختونخوا میں 27 لاکھ سیاح آئے، ہم سیاحتی مقامات کی زوننگ کریں گے اور سیاحتی مقامات کو لیز پر دیں گے۔ پیر کو یہاں نتھیا گلی میں بین الاقوامی ہوٹل کے سنگ بنیاد کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا اثاثہ سمندر پار پاکستانی ہیں اور بدقسمتی سے ہم ابھی تک

اثاثے کا صحیح طور پر فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ انہوںنے کہاکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا حکومتی نظام اس انداز میں پروان چڑھا ہے کہ حکومت پہلے اپنا اور پھر عوام کا فائدہ دیکھتی ہے حالانکہ حکومت کا بنیادی کام عوام کی بہتری ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں کہ جو نظام خرابی کی جانب جاتا ہے وہ اپنے آپ کو بچانا شروع کردیتا ہے۔انہوںنے کہاکہ سلطنت عثمانیہ کی تاریخ پڑھیں جو

ایک وقت میں دنیا کی سب سے بڑی سلطنت تھی لیکن جب وہ سکڑرہی تھی اس کی بیوروکریسی بڑھتی جارہی تھی۔وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت ملک کی سب سے بڑی ضرورت دولت میں اضافہ کرنا ہے جس سے نوکریاں ملیں گی، ٹیکس کلیکشن بڑھے گی، ملک پر چڑھے ہوئے قرضے واپس کرسکیں گے لیکن ہماری حکومت جیسی بن چکی ہے وہ اس طرح نہیں دیکھتی۔انہوںنے کہاکہ سمندر پار

پاکستانیوں کی ضرورت اس بات کی ہے کہ جب وہ پاکستان آئیں تو ہم ان کے لیے آسانیاں پیدا کریں اور ایسے مواقع تشکیل دیں کہ وہ اپنا پیسے سے سرمایہ کاری کرسکیں۔وزیراعظم کے مطابق 90 لاکھ پاکستانی بیرونِ ملک مقیم ہیں جن کی سالانہ آمدن تقریباً ملک کے 22 کروڑ افراد کی سالانہ آمدن کے برابر ہے، سب سے زیادہ پیسے والے اور ہنرمند پاکستانی بیرونِ ملک ہیں۔انہوںنے کہاکہ ایک نظام

انہیں یہاں چلنے نہیں دے رہا تو وہ باہر جا کر کامیاب ہوگئے، یہاں اس لیے کامیاب نہیں ہوسکے کہ سسٹم روکتا تھا، باہر انہیں کوئی سفارش نہیں کرنی پڑی لیکن نظام نے انہیں پیسہ بنانے اور کامیاب ہونے کی اجازت دی۔انہوںنے کہاکہ ہمارا بہترین ٹیلنٹ باہر جانے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ہم ملک میں انہیں کام کرنے کے مواقع فراہم نہیں کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ جب وہ سرمایہ کاری کریں گے تو ہماری

نوجوان آبادی کو نوکریاں ملیں گی لیکن اس وقت پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی تاریخ میں برآمدات بڑھانے کی کوشش ہی نہیں کی ملک اس وقت امیر ہوتا ہے جب اس کے پاس دنیا کو بیچنے کے لیے چیزیں ہوں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم کتنی چیزیں برآمد کرسکتے تھے لیکن کبھی کسی نے کوشش ہی نہیں کی اس لیے اب ہم اپنی برآمدات بڑھا رہے ہیں کہ اس سے ڈالر میں لیا گیا قرض واپس کریں

گے، روپیہ مضبوط ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہماری برآمدات نہیں بڑھ رہی اس وقت تک بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ملک میں سرمایہ کاری کے لیے لایا جائے، جب وہ ڈالر لے کر آئیں گے ہمارے زرِ مبادلہ کے ذخائر بڑھیں گے جس سے روپیہ مستحکم ہوتا جائے گا، مہنگائی اور غربت کم ہوتی جائے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ ابھی تک سمندر پار پاکستانی زیادہ سے زیادہ ایک پلاٹ خرید لیا

کرتے تھے اور بدقسمتی سے نظام اتنا خراب تھا کہ اس پر بھی قبضہ ہوجاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہماری جنگ سسٹم کو ٹھیک کرنا ہے، ہم قانون کی بالادستی کی جنگ لڑرہے، کوئی بھی ایسا ملک خوشحال نہیں ہے جہاں قانون کی بالادستی نہیں ہے آج افریقہ میں وسائل کے اعتبار سے کئی امیر ممالک ہیں لیکن وہاں قانون کی بالادستی نہیں ہے۔انہوںنے کہاکہ جیسے جیسے ملک میں قانون کی بالا

دستی قائم ہوتی جائے گی سمندر پار پاکستانی خود یہاں آ کر سرمایہ کاری کریں گے کیونکہ ان میں یہ اعتماد ہو گا کہ ان کی جائیداد اورپلاٹوں پر قبضے نہیں ہوں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ بڑے بڑے لوگوں نے ملک کی دولت لوٹ کر بیرون ملک محلات بنائے، کرپٹ لوگ مل کر حکومت کی مخالفت کررہے ہیں اور یہ سسٹم کو ٹھیک ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے کیونکہ انہوں نے اس کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھایا ہے۔انہوںنے کہاکہ یہ پاکستان کی بجائے خود بیرون ملک جا کرسرمایہ کاری کرتے ہیں، حکومتی اقدامات کی بدولت صورتحال بہتر ہو رہی ہے، ہم بتدریج بہتری کی طرف گامزن ہیں، صنعتیں چل

پڑی ہیں سرمایہ کاری آ رہی ہے اور معاشی حالات بہتر ہو رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں سیاحت کے شعبے میں بہت مواقع موجود ہیں، ہمیں اس سلسلے میں ابھی بہت کچھ کرنا ہے، خیبر پختونخوا میں ہماری حکومت بنی تو ہم نے سیاحت کے شعبے میں بہت سے اقدامات کیے جن کی بدولت اقوام متحدہ کے ادارے کی رپورٹ کے مطابق غربت میں تیزی سے کمی آئی۔انہوں نے کہاکہ دولت میں اضافہ سیاحت کے ذریعے ہوسکتا ہے، گلیات میں فائیو سٹار ہوٹل کاسنگ بنیاد رکھا جانا بہت بڑا قدم ہے، اس سے دولت مند لوگ سیاحت کے لیے آئیں گے اور اسکئنگ اور ریزورٹس کو فروغ حاصل

ہو گا۔وزیراعظم نے کہا کہ اسکئنگ کے جتنے مواقع پاکستان میں ہیں اتنے کہیں اور نہیں ہیں کیونکہ پاکستان میں سردیوں میں پہاڑی علاقوں میں دیر تک برف رہتی ہے، عید کی تعطیلات میں خیبر پختونخوا میں 27 لاکھ سیاح آئے، ہم سیاحتی مقامات کی زوننگ کریں گے اور سیاحتی مقامات کو لیز پر دیں گے۔انہوںنے کہاکہ حکومت سیاحت کے شعبہ کی ترقی کے لیے زمین سستے داموں دے گی

کیونکہ سیاحت ایسا شعبہ ہے جس کو فروغ دے کر ہم اپنا بیرونی قرضہ اتار سکتے ہیں۔وزیراعظم نے سمندر پار پاکستانیوں پر زور دیا کہ وہ پاکستان آئیں اور سرمایہ کاری کریں،حکومت ان کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرے گی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *