’’ سندھ میں وزارتوں کی بندر بانٹ‘‘زیادہ کرپشن کرنے والے کو کیا انعام ملتا ہے؟ تہلکہ خیز دعویٰ

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ سندھ میں تیرہ برس کے دوران تعلیم پر 1450 ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں، اس کے باوجود سندھ میں 69 لاکھ 45 ہزار سے زائد بچے تعلیم سے محروم ،12ہزار 444 اسکول بند پڑے ہیں،12 اسکولوں میں کوئی ٹیچر نہیں ہے،دس ہزار اسکول سندھ حکومت مزید بند کر رہی ہے ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔اس موقع پر پی ٹی آئی

اراکین اسمبلی خرم شیر زمان، سعید آفریشی، شاھنواز جدون، ملک شہزاد و دیگر پی ٹی آئی رہنما بھی موجود تھے تھے، حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سندھ میں ہزاروں سرکاری اسکول بنیادی سہولیات سے محروم، ہزاروں سرکاری اسکول پینے کے پانی سمیت بنیادی سہولیات سے محروم ہیں،6000 والی ڈیسک 29000 ہزار میں خریدی جارہی ہے جس سے سندھ کے خزانے کو 7 ارب کا ٹیکا لگے گا۔ ،

سندھ حکومت تعلیم دشمن ثابت ہورہی ہے،جو تعلیم کا دشن ہوتا ہے وہ نسلوں کو دشمن ہوتا ہے، مراد علی شاہ انٹی پاکستان لائن پر چل رہے ہیں، ایک نصاب سب کے لئے آج بات کی گئی ہے، ایک غریب سے بڑے افسر کے بچے کے لئے ایک نصاب لایا گیا، اس میں بھی انہوں نے جھوٹ بولا کہ سندھی زبان ختم کی جارہی ہے،50 فیصد سلیبس انگلش میں تھا جس میں میتھ، فزکس، کیمسٹری و دیگر شامل

ہیں جس میں مادھری زبان کے بجائے انگلش ہوتی ہے، اس پر کہا گیا کہ سندھ پر حملہ کیا گیا ہے، یہاں سندھ حکومت دس ہزار اسکول بند کر رہے ہیں وہ سندھ کی تعلیم پر حملہ نہیں ؟ اربوں کی لاگت سے یہ دس ہزار اسکول کیوں بنائے گئے ؟ ایک طرف اسکولز بند کی جارہی ہیں دوسری جانب 29 کباڑی کے ٹکڑے جوڑ کر ڈیسکیں بنائی جارہی ہیں، نئے نصاب میں کسی نے بھی نہیں کہا کہ سندھی نہیں

پڑھانی ہے، ہر صوبہ اپنی علاقائی زبان پڑھا سکتا ہے، لیکن سندھ کے وزیر تعلیم نے یکساں نصاب کی مخالفت کر کے سندھ دشمنی کا ثبوت دیا ہے،سندھ میں ٹھیکہ پورا ہونے کے بعد وزارت تبدیل کر دی جاتی ہے۔ سندھ میں وزارتیں ٹھیکوں پر دی جاتی ہیں، جو زیادہ کرپشن کرے گا اس کو بڑی وزارت ملے گی اس فارمولے کے تحت سندھ حکومت چل رہی ہے، موجود وزیر تعلیم سردار شاہ محکمہ

سیاحت و ثقافت سندھ کو تباہ کرنے کے بعد اب سندھ کی تعلیم کو بھی تباہ کرنے کے پہنچ چکے ہیں، خود کو سندھ پرست کہتے ہیں لیکن سندھ کی تعلیم کو تباہ کر دیا ہے، پیپلزپارٹی کو پتا چل گیا ہے کہ ان کی آخری باری ہے، اس لیے سب کچھ لوٹ رہے ہیں، ضلع غربی کراچی میں 15ارب کی 310 ایکڑ سرکاری زمین پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔ آگ لگا کر ہزاروں ایکڑ زمین کا ریکارڈ بھی جلا دیا گیا، اربوں

کی زمینوں پر قبضے کئے گئے ہیں ،سیلز سرٹیفیکٹ الاڑمنٹ کے آئوٹ پلانز کے تمام دستاویز جلا دیئے گئے،یہ سارا سسٹم یونس میمن کینیڈا سے چلا رہا ہے،زمینوں پر قبضے کروائے جاتے ہیں ،لیکن سندھ حکومت کے کسی ادارے نے کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی، موجودہ ڈی سی غربی بھی ان 310ایکڑ زمینوں کی الاٹمنٹ لکھے خطوط کو جعلی قرار دے چکے ہیں۔ سندھ کی زمینوں پر

قبضے کر کے بیچی جارہی ہیں، 89 ہزار ایکڑ زمین کراچی میں قبضے ہیں 28 لاکھ محکمہ سندھ فاریسٹ کی زمینوں پر قبضے ہیں، جعلی کھاتوں پر لے آئوٹ بنا کر کام شروع کیا جاتا ہے پھر ریکارڈ جلا دیا جاتا ہے،دس لاکھ ایکڑ زمینوں کے جعلی کھاتے بنائے گئے ہیں،محترمہ کی شہادت کے دن آفیسوں کو آگ لگائی گئی تھی، اس کے بعد جعلی ریکارڈ بننا شروع ہوگیا تھا، حلیم عادل شیخ نے مزید کہا

سندھ میں غریب بے روزگار نوجوانوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالا جارہا ہے۔ ایک اسکیل سے پانچ اسکیل تک نوکریاں بیچی جارہی ہیں، تمام نوکریاں بغیر کسی ٹیسٹ انٹرویوز کے پی پی کے کارکنوں کو دی جارہی ہیں، ہر اضلاع میں پی پی کے صدر سے لیکر زیلی تنظیم کی عہدیداروں میں تقسیم کئے گئے ہیں،ایک بھی نوکری کسی مستحق غریب بے روزگار نوجوان کو نہیں دی گئی، اخبارات میں کروڑوں کے

اشہتارات دیئے گئے ،غریب نوجوانوں سے کاغذات منگوائے گئے،سارے کاغذات ردی کی ٹوکریوں میں پڑے ہیں،نوکریوں کی تقسیم کے لئے ایک ایسا سسٹم بنایا جائے جس کے تحت میرٹ پر نوکریاں دی جائیں۔ سندھ کے کروڑوں بے روزگار نوجوان کا مسئلہ ہے اس طرح بندر بانٹ ہونے نہیں دیں گے۔ پی ٹی آئی کراچی کے صدر و رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے کہا سندھ حکومت بتائیں کہ کراچی

کی عوام کو بچانے کے لئے کیا کیا ہے؟سارے محکمے مال بنانے کے لئے بیٹھے ہیں ، کراچی کی انڈسٹریز کو تباہ کیا جارہا ہے،دو سے اڈھائی سو فیکٹریوں کو بند کر دیا گیا ہے،ہزاروں مزدوروں کی دھاڑیوں کو بند کر دیا گیا۔ فیکٹریوں کے ایکسپورٹ کے آرڈر لگے ہوئے ہیں،ان سب کو غیر قانونی قرار دے رہے ہیں،جب یہ فیکٹریاں بن رہی تھے تب کیوں این او سی دی گئی،آج یہ فیکٹریاں پاکستان کی

اکانامی میں حصہ دے رہی ہیں ان کو کیوں سیل کیا گیا ،ہم مطالبہ کرتے ہیں تمام فیکٹری کو ڈی سیل کر دیا جائے، اگر فیکٹریوں میں ایمرجنسی اقدامات اٹھانے کا سسٹم نہ ہوتو ان پر کارروائی کی جائے مگر یوں یہ فیکٹریاں بند ہونے ہیں دیں گے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *