وزیراعظم عوامی مفاد میں جس مٹی میں ہاتھ ڈالتے ہیں وہ سونا بن جاتی ہے

وزیراعظم کے ترجمان و معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ وزیراعظم عوامی مفاد میں جس مٹی میں ہاتھ ڈالتے ہیں وہ سونا بن جاتی ہے،سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ لاہور کے پانچ پلاٹس کی نیلامی سے پنجاب حکومت کو ساڑھے 21ارب روپے کی آمدن ہوئی ہے، یہ منصوبہ بغیر کسی قرضہ کے شروع کیا جا رہا ہے، اس سے 1500ارب روپے آمدن ہوگی، اڑھائی لاکھ روزگار کے نئے مواقع پیداہونگے،ہم عوام کو ٹیکہ نہیں لگا رہے جو منصوبے شروع کر رہے ہیں وہ پبلک پرائویٹ پارٹنرشپ کے تحت سرکاری اراضی پر شروع کئے جا رہے

ہیں، بلند ترین عمارتوں سے متعلق پالیسی کاجلد اعلان کیا جائیگا۔معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے یہ بات جمعرات کو راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عمران امین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اور راوی ریور پروجیکٹ موجودہ حکومت کا منصوبہ ہے، یہ عوامی مفاد کی بات ہے،سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کے حوالے سے اخبارات کو کروڑوں روپے کے اشتہارات دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ لاہور میں پاکستان کی تاریخ کا پہلا سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ بن رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے چند مہینوں سے اس پر کام جاری ہے اور وزیر اعظم ذاتی طور پر اس منصوبے کی نگرانی کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے پر عملی کام شروع ہو چکا ہے، یہ منصوبہ 1600 ایکڑپر لاہور کی پرائم لینڈ کٹر پر مشتمل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کے پانچ پلاٹوں کی نیلامی ہو چکی ہے ، نیلامی میں ترکی کی سب سے بڑی کمپنی بگ ارٹر سمیت 5 کمپنیوں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ 42کروڑ فی کنال نیلامی کی گئی ہے، اس نیلامی میں حکومت پنجاب کو 21.58ارب کی آمدن ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کچھ لوگ انگلیاں گھما کر کہتے تھے کہ ہم نے اربوں کی بچت کی۔انہوں نے کہا کہ اس مٹی کو وزیراعظم عمران خان نے ہاتھ لگایا ہے اس لئے فائدہ آیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عوام کے مفاد میں جس مٹی میں ہاتھ ڈالتے ہیں تو وہ سونا بن جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں عوام کو میٹرو بس اور اورنج ٹرین دی گئی جس پر 2سالانہ 12 ارب روپے سبسڈی دی جا رہی ہے جبکہ قرضوں کی قسطیں الگ اد ا کرنی پڑتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو منصوبے ہم شروع کر رہے ہیں وہ پبلک پرائویٹ پارٹنرشپ کے تحت سرکاری اراضی پر شروع کئے جا رہے ہیں، ہم عوام کو ٹیکہ نہیں لگا رہے ۔ معاون خصوصی نے کہاکہ سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ بغیر قرضے کے شروع کیا جارہا ہے اور اس سے 1500 ارب روپے منافع ہو گا اور 2 لاکھ50 ہزار لوگوں کو نوکریاں ملیں گی ۔ لاہور کے اندر آلودگی پر بھی قابو پانے میں مدد ملے گی۔ڈاکٹر شہباز گل نے کہاکہ فیصل آباد، ملتان اور راولپنڈی میں سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ قائم کئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں سے حاصل ہونے والی رقم عوامی مفاد کے منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہائوسنگ کے شعبہ میں قرضوں کی فراہمی میں تیزی آئی ہے۔ تین ماہ قبل ہائوسنگ کے شعبہ میں 1.6 ارب روپے قرضہ لیا گیا تھا جبکہ گزشتہ تین مہینے کیدوران 10ارب روپے کاقرضہ جاری کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین ماہ قبل قرضوں کی درخواستوں کی منظوری کی شرح 3.17 فیصد تھی جو اب 40 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین ماہ قبل قرضوں کی فراہمی کی شرح 2 فیصد تھی جو اب بڑھ کر 20 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلند و بالا عمارتوں سے متعلق نئی پالیسی جلد لائی جائے گی تاکہ شہروں کے بے ہنگم بڑھوتری کو روکا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ دولت کی پیداوار میں اضافہ سے مہنگائی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ قرضے لے کر منصوبے شروع کرنا حل نہیں بلکہ پائیدار منصوبوں سے ملکی معیشت مستحکم ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران بھی ملکی معیشت مستحکم رہی اور اب پاکستان بہتری کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا جو کہ 21 دنوں میں درخواستوں کی منظوری دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں تعمیرات سے متعلق درخواستیں طویل عرصہ سے زیرالتوا ہیں۔ اس موقع پر راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عمران امین نے سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ منصوبے کے خدوخال سے آگاہ کیا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *