محسن ِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر سے متعلق ہسپتال سے تشویشناک خبر آگئی

اسلام آباد قومی ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی طبعیت ناساز ہو گئی۔ منگل کو ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ڈاکٹرعبدالقدیر خان کو کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر 26 اگست کو کے آر ایل ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ ان کو 28 اگست کو ملٹری ہسپتال میں کووڈ وارڈ میں منتقل کیا گیا۔ ملٹری ہسپتال میں ان کا علاج جاری ہے اور ڈاکٹر پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی طبیعت سنبھل جائے۔ پاکستانی ایٹم بم کے خالق۔ہندوستان کے شہر

بھوپال میں ایک اردو بولنے والے پشتون گھرانے میں پیدا ہوئے۔ عبد القدیر خان پندرہ برس یورپ میں رہنے کے دوران مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ اور بیلجیئم کی یونیورسٹی آف لیوؤن میں پڑھنے کے بعد 1976ء میں واپس پاکستان لوٹ آئےـ عبد القدیر خان نے ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس جبکہ بیلجیئم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئری کی اسناد حاصل کرنے کے بعد 31 مئی 1976ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی دعوت پر “انجینئری ریسرچ لیبارٹریز” کے پاکستانی ایٹمی پروگرام میں حصہ لیا۔ بعد ازاں اس ادارے کا نام صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے یکم مئی 1981ء کو تبدیل

کرکے ’ ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز‘ رکھ دیا۔ یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان نے نومبر 2000ء میں ککسٹ نامی درسگاہ کی بنیاد رکھی۔عبد القدیرخان پر ہالینڈ کی حکومت نے غلطی سے اہم معلومات چرانے کے الزام میں مقدمہ دائر کیا لیکن ہالینڈ، بیلجیئم، برطانیہ اور جرمنی کے پروفیسروں نے جب ان الزامات کا جائزہ لیا تو انہوں نے عبد القدیر خان کو بری کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ جن معلومات کو چرانے کی بنا پر مقدمہ داخل کیا گیا ہے وہ عام کتابوں میں موجود ہیں ـ جس کے بعد ہالینڈ کی عدالت عالیہ نے ان کو باعزت بری کردیاـعبد القدیرخان وہ مایہ ناز سائنس دان ہیں جنہوں نے آٹھ سال کے انتہائی قلیل عرصہ میں انتھک محنت و لگن کی ساتھ ایٹمی پلانٹ نصب کرکے دنیا کے نامور نوبل انعام یافتہ سائنس دانوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *