بھوک کیوں نہیں لگتی؟جانیے بھوک بڑھانے کے آسان گھریلو ٹوٹکے

بھوک نہ لگنا یا کم لگنا ایک ایسی بیماری ہے جس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں اگر اس پر توجہ نہیں دی جائے تو اس کیوجہ کئی اور بیماریوں کا خدشہ ہوسکتا ہے ۔ کیوں کہ کھانا نہ کھانے کیوجہ سے جسم کو توانائی نہیں ملتی جس کیوجہ جسم کے اعضاء کمزور ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔دوستو سب سے پہلے آپ کو بھوک نہ لگنے کے وجوہات بتاتے ہیں بھوک نہ لگنا اور کھانے کو جی نہ چاہنا

ایک بیماری ہے جس میں کھانے کے بارے میں سوچنے کو بھی جی متلانے لگتا ہے ۔اور اگر یہ بیماری زیادہ لمبے عرصے تک کنٹرول نہ کی جائے تو جسم بھوک کی کمی کا شکار ہوجاتا ہے اور اس کی میڈیکل یا نفسیاتی کوئی بھی وجہ ہوسکتی ہے اور اگر بھوک نہ لگنے کے ساتھ ساتھ جسم میں تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں تو یاد رکھیے کہ تھکاوٹ اور بھوک نہ لگنا صحت میں کئی خرابیوں کی نشانی ہوسکتی ہے جس میں عام طور پر نزلہ زکا م اور بخار جیسی علامات شامل ہیں ذہنی پریشانی بھی جو بھوک کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ جسم میں تھکاوٹ پیدا کرتی ہیں اسی طرح نظام انہضام میں خرابی بھی بھوک کو ختم کرنے کا باعث بنتی ہےکئی اور سنجیدہ بیماریاں کینسر وغیرہ بھوک کو ختم کرکے جسم میں تھکاوٹ پیدا کرتا ہے ۔

اس لیے تھکاوٹ اور بھوک نہ لگنے کی اس بیماری کو نظر اندازنہیں کرنا چاہیے ۔ تاکہ جلد از جلد مرض کی تشخیص ہوسکے اور اسکا علاج ہوسکے ۔ چند اور علامات پہلی وجہ انفیکشن وہ انفیکشن جن کی وجہ بھوک لگنا کم ہوجاتی ہے ان میں نمونیا سینا جکڑنا ،ہیپاٹائٹس ، جگر پر ورم ایچ آئی وی ایڈ اور گردن کا انفیکشن شامل ہے ۔دوسری وجہ ہے کہ مختلف قسم کی بیماریاں معدے کی بیماریاں اور خاص طور آنتوں کے کینسر میں بھوک لگنا کم ہوجاتی ہے اور دل کی بیماریاں بھی بھوک کو کم کرتی ہیں اسی طرح نفسیاتی بیماریاں جن میں ڈپریشن ،بے چینی اور ہیجان کی بیماریاں شامل اور بھوک ی کمی کا باعث بنتی ہیں ۔ تیسری وجہ ہے دواؤں کا استعمال خاص طور پر ایسی دوائیں جو نشے کا علاج کرنے یا وزن کم کرنے میں دی جائیں ۔

چوتھی وجہ ہے کہ جذباتی دباؤ کی وجہ سے بھوک لگنا کم ہوجاتی ہے کسی پیارے کو کھودینا ۔نوکری چھوٹ جانا ،طلاق ہوجانا یا مثبت دباؤ یعنی شادی محبت میں مبتلا ہوجانا بھوک میں کمی کا باعث بنتی ہے ۔ اس کا انحصار حالات کی نوعیت یا کسی فرد قوت برداشت پر ہے ۔ وقتی طور پر ہی یہ کیفیت ہوتی اور دباؤ کم ہونے کیساتھ ہی کم ہوجاتی ہے ۔ اگر بھوک کی کمی ڈپریشن کی وجہ ہے تو ماہرین کا مشورہ لینا جائزہوجاتا ہے ۔ پانچویں وجہ ہے منہ کا ذائقہ ختم ہوجانا عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ذائقہ محسوس کرنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی جس سے کوئی چیز ذائقہ دار نہیں لگتی یہاں تک کہ پسندیدہ چیز بھی اچھی نہیں لگتی ۔چھٹی وجہ ہے کہ

چبانے یا نگلنے میں تکلیف ہونا دانتوں کی تکلیف دواؤں کا استعمال یا کچھ ایسی صورتیں یعنی سٹوک ڈمیشیاوغیرہ میں بھی چبانے یا نگلنے میں تنگی محسوس ہوتی ہے ایسی وجہ کھانا کھانے کا جی نہیں چاہتا۔ ساتویں وجہ ہے کہ سونگھنے کی حس بڑھ جانا ہے ۔ حاملہ عورتوں میں ہر چیز کی خوشبو زیادہ محسوس ہوتی ہے جس کیوجہ سے جو چیزیں پہلے محسوس نہیں ہوتی تھی وہ بھی محسوس ہونے لگتی ہیں اور متلی کی کیفیت محسوس ہوتی ہے اور کھانے کا جی نہیں چاہتا۔ آٹھویں وجہ ہے اکیلا پن ۔اکیلا پن بھی کھانے کی خواہش کو کم کردیتا ہے اکیلے رہتے کھانا بنانا بہت مشکل لگتا ہے اور اکثر کھانے کو نظر انداز کردیا جاتا ہے ۔نوویں وجہ کھانے کا ماحول کھاناکھاتے وقت اگر ماحول اچھا ہوگا تو کھانا اچھی طرح کھایا جاتا ہے

اس کے برعکس کھانے کے وقت بحث وتقرار شروع ہوجائے تو اچھے سے اچھا کھانا کھانے کو بھی دل نہیں کرتا ۔ دسویں وجہ ہے ورزش کی کمی دن بھر بھاگ دوڑ اور ورزش کرنے سے بھی بھوک زیادہ لگتی ہے اگر چلنا کم ہو اور مستقل بیٹھا رہنا پڑے اس میں بھی بھوک کم لگتی اور کھانے کی خواہش نہیں ہوتی ہے ۔اب آپ کو بتاتے ہیں بھوک کو بڑھانے چند گھریلو ٹوٹکے طب ایور وید اور طب یونان میں بھوک بڑھانے کیلئے اکثر لیموں اور ادرک کی چٹنی کھانے کا کہتے ہیں اور کوئی شک نہیں یہ چٹنی معدے کی صفائی کرتی اور وہاں بھوک کو بڑھانے کا باعث بھی بنتی اور اس میں سبزدھنیا بھی شامل کرلی جائیں تو پھر یہ بھوک بڑھانے کا باعث بنتی ہے ۔ بھوک نہ لگنا اور کھٹی ڈکاریں آنا جیسی علامات اگر معلوم ہورہی ہوں تو

لیموں کی شکنجوی بہت مفید ثابت ہوتا ہے ایک گلاس پانی میں ایک لیموں نچوڑ کر چینی شامل اور روزانہ استعمال کریں ۔ایک چمچ ادرک کا رس ایک لیموں اور ساندہ نمک یعنی قدرتی راک سالٹ کو پانی میں مکس کرکے پینے سے بھی پیٹ کی کئی بیماریاں ختم ہوتی اور بھوک لگنا شروع ہوجاتی ہے ۔ کالی مرچ کو ہلکا سا گرم کریں اور پھر اس کو کھالیں اس سے بھی آپ کی بھوک کی کمی ختم ہوگی ۔ صبح کے وقت سرخ ٹماٹر کر اس پر کالی مرچ چھڑک کر کھائیں تو اس سے بھی آپ کی بھوک کی کمی میں آفاقہ ہوگا۔ تھوڑا میتھی دانہ لیکر اسے پانی میں شامل کریں اور گرم کرکے قہو ہ بناکر پی لیں اس سے بھی بھوک پیداہونا شروع ہوجاتی ہے یا پانچ گرام میتھی دانہ لیکر اسے گھی میں تھوڑا فرائی کرلیں ور سرخ ہونے پر گھی سے نکال ٹھنڈا کرلیں

اور پانچ گرام شہد میں ملا کر متواتر استعمال یہ آپ کی بھوک کی کمی کو دور کرے گا۔ سبز دھنیا کی چٹنی بھی بھوک کی کمی کو ختم کرنے مدد دیتی ہے اسی لیے اس چٹنی کو بھی اپنی خوراک میں شامل کریں اس سے بھی بھوک کی کمی آفاقہ ہوگا۔ آخر میں آپ کو ضروری بات بتاتیں ہیں اگر آپ کوبھوک نہ لگنے کی شکایت ہے تو آپ چائے اور کافی سے اجتناب کریں کیونکہ یہ ڈرنکس معدے میں تیزابیت پیدا کرتی ہیں اور بھوک کی کمی کا باعث بنتی ہیں۔شکریہ

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *