وفاقی حکومت نے چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کر دیا

الیکٹرانیک ووٹنگ مشین اور سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے کی مخالفت کے بعد حکومتی وزرا نے چیف الیکشن کمشنر پر جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا ہے، وفاقی وزرا ء نے الیکشن کمیشن کی جانب سے لگائے جانے والے اعتراضات کو ان کی اپنی نااہلی قرار دیتے ہوئے کہاکہ قانون سازی کرنے کے بعد انتخابات میں الیکٹرانیک ووٹنگ مشین کے

استعمال کو لازمی بنائیں گے۔جمعہ کے روز اسلام اباد میں وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے وفاقی وزیر ریلویز اعظم سواتی اور وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر بابر اعوان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ایسے لگ رہا ہے کہ الیکشن کمیشن اپوزیشن کا ہیڈ کوارٹرز بن گیا ہے انہوں نے کہاکہ شاہد خاقان عباسی اینڈ کمپنی مل کر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال
سے متعلق قانونی ترمیم متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان ہمیشہ سے صاف و شفاف انتخابات کے داعی رہے ہیں 2013ء کے انتخابات کے تحت وجود میں آنے والی اسمبلی سے عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کو وزیراعظم بننے پر مبارکباد دی اور کہا کہ تمام جماعتیں کہہ رہی ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے اور یہ مطالبہ کیا کہ آپ

سارا الیکشن نہیں کھولنا چاہتے تو چار حلقے کھول دیں تاکہ الیکشن میں دھاندلی کا سبب سامنے آ سکے مگرعمران خان کی تقریر پر کسی نے توجہ نہ دی جس کے نتیجے میں پاکستان کی سیاسی تاریخ کی ایک بڑی تحریک کا آغاز ہوااس تحریک کا مقصد شفاف، منصفانہ اور آئین کے مطابق الیکشن کروانا تھا، یہ تحریک جوڈیشل کمیشن کے قیام پر منتج ہوئی جس کے سربراہ جسٹس ناصر الملک تھے

جوڈیشل کمیشن نے تمام جماعتوں کو سنا اور اس کے بعد انہوں نے اپنی سفارشات پیش کیں ان کی سفارشات میں یہ شامل تھا کہ ملک میں شفاف اور منصفانہ انتخابات کا طریقہ کار سو فیصد درست نہیں ہے انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن کا سٹرکچر سیاست پر مبنی تھا الیکشن کمیشن پر لوگوں کو اعتماد نہیں تھاالیکشن کمیشن کے ماتحت جن اداروں کے پاس انتخابات کرانے کا مینڈیٹ یا وہ افراد جو الیکشن
کمیشن میں کام کرتے تھے، ان کی سیاسی وابستگی ان کے کام پر حاوی ہے انہوں نے کہاکہ 2018ء کے انتخابات میں عوام نے عمران خان پر اعتماد کا اظہار کیا اور وہ وزیراعظم بنے، ہمارے منشور میں شامل تھا کہ ہم الیکشن کمیشن کو آزادانہ، منصفانہ اور شفاف بنائیں گے تحریک انصاف واحد جماعت ہے جس نے حکومت میں رہتے ہوئے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لئے اپنی تجاویز پیش کیں

اورکمیٹی کی سطح پر یہ تجاویز زیر بحث آئیں ان تجاویز پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے تفصیل سے کام کیا تھااورایک عمیق، گہری اور غور و خوض کے بعد ہم اپنی سفارشات کو پارلیمان میں لے گئے ہم نے اپوزیشن کو دعوت دی کہ وہ آئیں اور ہمارے ساتھ بیٹھیں اور انتخابی اصلاحات پر بات کریں کوئی بھی شخص پاکستان میں انتخابی نظام سے مطمئن نہیں ہے سیالکوٹ، کشمیر انتخاب، گلگت

بلتستان کے انتخابات اور ضمنی انتخابات سمیت جہاں جہاں اپوزیشن ہاری اس نے کہا کہ دھاندلی ہوئی ہے، انہوں نے کہاکہ عمران خان وزیراعظم ہوتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ اگر انہیں لگتا ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے اور پاکستان کے عوام انتخابی اصلاحات پر غیر مطمئن ہیں تو اس کا حل یہی ہے کہ سیاسی قیادت بیٹھ کر فیصلہ کرے کہ ملک میں کس نظام کے تحت الیکشن ہونے چاہئیں جو قابل قبول ہوں انہوں
نے کہاکہ ہم انتخابی عمل میں ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا چاہتے ہیں سپریم کورٹ میں سینیٹ کے انتخابات کا معاملہ گیا، سپریم کورٹ نے انتخابات میں شفافیت لانے کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کا کہا مگرالیکشن کمیشن کی منطق عجیب و غریب ہے، اس کا کہنا ہے کہ پارلیمان کو حق نہیں ہے کہ وہ بتائے کہ نظام کیا ہوگا انہوں نے کہاکہ آئین کے آرٹیکل 218 میں از خود یہ تحریر ہے کہ انتخابات

قانون کے تحت ہوں گے قانون بنانے کا اختیار پارلیمان کے پاس ہے، کوئی بھی ملک اپنی پارلیمان کے وقار کو مجروح نہیں ہونے دیتا کیونکہ عوام کی اصل آواز پارلیمنٹ سے آ رہی ہوتی ہے اور پارلیمنٹ کے اندر بیٹھے ہوئے لوگ فیصلہ کرتے ہیں کہ انہوں نے کس قسم کا نظام اپنانا ہے الیکشن کمیشن کی یہ منطق کہ پارلیمنٹ انہیں یہ گائیڈ نہیں کر سکتی کہ انہوں نے الیکشن کیسے کرانا ہے، درست نہیں

ہے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ پارلیمان کو نظر انداز کرے سینیٹ کمیٹی میں الیکشن کمیشن کا رویہ پارلیمنٹ کے استحقاق کو ٹھکرانے کے مترادف ہے انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے ہماری اپوزیشن ذہنی بونوں پر مشتمل ہے، ان کی صلاحیت اپنے کیسز سے آگے سوچنے کی نہیں ہے اپوزیشن کی تمام لیڈر شپ کو صرف ایک ہی ہنر آتا ہے وہ یہ ہے کہ مقدموں میں تاریخ کیسے لینی ہے وہ یہ سمجھنے
سے عاری ہیں کہ پارلیمنٹ مضبوط ہوگی تو ملک کے عوام مضوط ہوں گے اور ملکی سیاست بہتر ہوگی وہ روز ووٹ کو عزت دو کی بات کرتے ہیں لیکن انہیں جب بھی ڈیل کا موقع ملتا ہے تو وہ فوراً ڈیل پر آ جاتے ہیں کسی بھی جگہ پر ریفارمز یا اصلاحات کی بات ہو فوری طور پر اپوزیشن اسے چھوڑ کر ڈیل کے پیچھے پڑ جاتی ہے انہوں نے کہاکہ اپوزیشن والے ایک دوسرے کے کپڑے چوک میں

اتار رہے ہیں، یہ ایک دوسرے کو خود ہی ننگا کر رہے ہیں مولانا فضل الرحمان بلاول کو اور بلاول مولانا کو اور پھر دونوں مل کر ن لیگ کو سنا رہے ہیں، یہ چھوٹے لوگ ہیں، ان کی سوچ چھوٹی ہے، ان سے بھلائی کی توقع نہیں کی جا سکتی ہے انہوں نے کہاکہ اگرالیکشن کمیشن کو ٹیکنالوجی پر کوئی اعتراض ہے یا کسی چیز میں وہ بہتری لانا چاہتے ہیں تو وہ میڈیا میڈیا کھیلنا بند کرے اگر چیف

الیکشن کمشنر نے سیاست کرنی ہے تو ان کو دعوت دوں گا کہ الیکشن کمیشن کو چھوڑیں اور خود الیکشن میں امیدوار آ جائیں، پارلیمنٹ میں آ کر اپنا کردار ادا کریں، یہ ان کا آئینی حق ہے انہوں نے کہاکہ اس وقت ایسا لگ رہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اپوزیشن کا ما?تھ پیس بن چکے ہیں انہوں نے کہاکہ ملک کی سب سے بڑی جماعت ہونے، پارلیمنٹ کے اندر سب سے بڑی عددی اکثریت رکھنے کے

اعتبار سے ہمیں چیف الیکشن کمشنر پر اعتماد نہیں ہے تو وہ شفاف اور منصفانہ انتخابات کیسے کرائیں گے انہوں نے کہاکہ چہف الیکشن کمشنر اپنے رویئے پر نظرثانی کریں وہ چھوٹی جماعتوں کے آلہ کار نہ بنیں اور اپنے ادارے کو ایک سربراہ کے طور پر آگے لے کر جائیں انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے ای وی ایم پر احمقانہ اعتراضات لگائے اور پھر اس پر سیاست کی اس موقع پر و فاقی وزیر

ریلوے اعظم سواتی نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل چکی ہے،چیف الیکشن کمشنر ایک فریق کی حیثیت سے حکومت کے خلاف کھڑی ہوگئی ہے،الیکشن کمیشن متنازعہ بن چکا ہے چیف الیکشن کمشنر فوری استعفیٰ دے۔وزیر اعظم کے مشیر ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اس سے قبل بھی اجلاسوں میں شرکت سے انکار کیا ہے بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ
الیکشن کمیشن انتخابات میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں مخلص نہیں ہے انہوں نے کہاکہ چیف الیکشن کمشنر پر اب حکومت کا اعتماد نہیں رہا ہے لہذا وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں انتخابات کو شفاف اور منصفانہ بنانے کیلئے قانون سازی کریں گے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *