بھارت اربوں ڈالرز لگانے کے باوجود افغانستان میں ذلیل و رسوا ہوا، ہماری پالیسی کے بعد تنہا رہ گیا، بھارتی میڈیا کے شور سے تو ایسا لگتا ہے کہ افغانستان ہی ان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے

لاہور(این این آئی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان میں حکومت سازی ہمارا کام نہیں کہ ہم انہیں بتائیں بلکہ یہ افغانستان کی عوام کا کام ہے،ہم صرف افغانستان کے استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں،کیا امریکہ سمیت دیگر ممالک کے انٹیلی جنس چیفس نے کابل کا دورہ نہیں کیا جو بھارت کو جنرل فیض حمید کے دورہ کابل سے پریشانی ہو رہی ہے، ویسے تو ہماری بھارت کے ساتھ تجارت بند ہے لیکن بھارت میں جو جلن ہے اس کے لئے کابینہ کے آئندہ اجلاس میں یہ تجویز پیش کروں گاکہ

پاکستان سے بھارت کو ”برنال“ برآمد کرنے کی اجازت دی،ہماری یہ حکمت عملی ہے کہ بھارت اربوں ڈالرز لگانے کے باوجود افغانستان میں ذلیل و رسوا ہوا ہے اور بھارتی عوام کو اپنی حکومت سے پوچھنا چاہیے کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ جو بھارت کے غریب عوام پرلگنا چاہیے تھا وہ کیوں افغانستان میں برباد کیا گیا،اپوزیشن جماعتیں چوں چوں کا مربہ ہیں او ران کا قومی معاملات میں کوئی سنجیدہ کردارنہیں،مسلم لیگ (ن)میں ٹاس کے ذریعے ہر ہفتے قیادت کی جارہی ہے، ایک 92سال کاکشمیری مجاہد موت کے بعدآزادی او رحریت کی علامت ہے،سری نگرہائی وے پر حریت لیڈر سید علی گیلانی کی یادگار تعمیر کرنے کی تجویز پیش کی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی سے ان کے بھائی کے انتقال پر اظہار تعزیت ا ور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ بھارت نے حریت رہنما سید علی گیلانی کی میت کی جو بے حرمتی کی ہے اس کی وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے شدید مذمت کی ہیپاکستان نے صبح بھارت کی حکومت کی مذمت کی میت کی بے حرمتی کے اوپر۔ ایک 92سال کاکشمیری مجاہد موت کے بعدآزادی او رحریت کی علامت ہے۔ بھارت اتنا خوفزدہ ہے کہ وہ عوامی جنازہ کی اجازت دینے سے بھی ڈر رہا ہے، نریندرمودی جوہٹلر سے متاثر ہے اس کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں اورایک میت کواس کی فیملی کے حوالے نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سید علی گیلانی کشمیر کی آزادی کا استعارہ ہیں،بھارت سامراج جو ایک دہشتگرد فلاسفی رکھنے والی جماعت او ردہشگرد ی کی سرپرستی کرنے والا لیڈر جو بھارت پر مسلط ہے جس کا نام نریندرمودی ہے وہ اتنا بزدل ہے کہ وہ آزادی کے ایک استعارہ کو برداشت نہیں کر سکا۔ پاکستان کی حکومت اورعوام اس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ہم کشمیر کے لوگوں کو بتا نا چاہتے ہیں ہم سیسہ پلائی دیوار کی طرح آپ کے پیچھے کھڑے ہیں،پاکستان نے کشمیر کے لئے تین جنگیں لڑی ہیں،ہمارے قبرستان ان شہیدوں سے آباد ہیں جنہوں نے کشمیر کے لئے اپنا لہو دیا ہے، کشمیر کی سات دہائیوں پر محیط جدوجہد ہے جسے ہم سلام پیش کرتا ہے اور ہم اس کا عملی حصہ بھی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ افغانستان کی جو صورتحال ہے اس میں خصوصاً بھارتی میڈیا پر حیران ہوں۔ ویسے تو ہماری بھارت کے ساتھ تجارت بند ہے لیکن میں کابینہ کی آئندہ میٹنگ میں یہ تجویز پیش کروں گا کہ پاکستان کو بھارت کو ”برنال“ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دی جائے کیونکہ وہاں بہت جلن ہے۔ پاکستان کے آئی ایس آئی چیف نے کابل کا دورہ کیا ہے اس پر بہت بات ہو رہی ہے۔کیا اس سے قبل امریکہ کی سی آئی اے چیف وہاں نہیں گئے،ترکی اور قطر کے انٹیلی جنس چیف نے کابل کا دورہ نہیں کیا؟۔ پوری دنیا کی انٹیلی جنس ایجنسیز کی ورکنگ ہوتی ہے، علاقے ہیں تعلقات اورسیاست کو دیکھنا ہوتا ہے،

افغانستان میں جو ہوتا ہے اس کے پاکستان میں بڑے گہرے اثرات ہوتے ہیں، وہاں سے اگر ہجرت ہوتی ہے تو سب سے زیادہ اثرات پاکستان پر ہوتے ہیں، وہاں اگر سیاسی عدم عدم استحکام ہے تو سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوتا ہے،اگر افغانستان دہشتگرد تنظیموں کا حب بن جاتا ہے تو اس کے پاکستان پر اثرات آتے ہیں۔ ہمارا افغانستان کے ساتھ گہرا سٹریٹجک تعلق ہے اور اس کے معیشت،سیاسی،سماجی اور معاشی تعلق پر اثرات آتے ہیں، ہم افغانستان کی صورتحال پر آنکھیں بند کر نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت افغانستان کے اندر سیاسی حکومت نہیں او رایک خلاء ہے، ایسے میں انٹیلی جنس کے غیر روایتی روابط ہوتے ہیں جو بر قرار رہیں گے۔اگر پاکستان کے وزیر خارجہ وہاں جائیں گے تو کس سے ملاقات کریں گے۔

ایسے حالات میں غیر روایتی تعلقات کو استعمال کیا جاتا ہے تاکہ جو کہ ایک تشویش ہے معاملات ہیں ان میں ا یک دوسرے سے روابط رکھے جا سکیں بات چیت کی طرف آیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے متعلق ہماری پالیسی دنیا کے ساتھ ہے۔امریکی صدر جوبائیڈن جو بات آج کہہ رہے ہیں کہ افغانستان کے معاملات کا سیاسی حل ہونا چاہیے پاکستان یہی بات آج سے سالوں پہلے کہہ رہا تھا،وزیر اعظم عمران خان 2007ء سے کہہ رہے تھے اور یہاں پر مجموعی طو رپر یہی تھی کہ ایک سیاسی حل کی طرف بڑھیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مغرب اتنا نقصان ہونے کے بعد یہ بات کہہ رہا ہے او رپاکستان نقصان ہونے سے پہلے اس طرف توجہ دلا رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو پالیسی یہ ہے کہ ہم ایک عام افغان کو چھوڑ نہیں سکتے، ہمارے لئے ایک عام افغان کی زندگی کی بھی اتنی ہی اہمیت حاصل ہے جو ان لوگو ں کو حاصل ہے جو افغانستان سے انخلاء کے ذریعے باہر چلے ہیں۔ پاکستان نے فغانستان سے غیر ملکیوں کے انخلاء کے لئے بڑا کام کیا ہے،اس میں ہماری پی آئی کابڑا کردارہے، ہمارے سفارتخانے نے بڑا کام کیا ہے،غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کے لئے ہماری وزارت اطلاعات نے متحرک کردار ادا کیا، ہمارے بارڈرزکھلے ہوئے ہیں،فضائی راستے کھلے ہیں اورہم ان کی مددکے لئے تیار ہیں او ریہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ کہنا کہ جولوگ کابل رہ گئے ہیں ان کی پرواہ نہ کریں تو یہ مناسب نہیں، ہمارے لئے وہ بھی اہم ہیں جن کا انخلاء ہوا اور وہ بھی اہم ہیں جو پیچھے رہ گئے ہیں، ہمارے لئے دونوں اہم ہیں۔
اگر ہم کہیں جوپیچھے رہ گئے ہیں ہم انہیں چھوڑ دیں تو افغانستان میں عدم استحکام پیدا ہوگا او ریہ دنیا کے مفادمیں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے وزیر خارجہ آئے،جرمنی کے وزیر خارجہ پاکستان آئے،وزیر اعظم عمران خان کی غیر ملکی لیڈروں سے بات چیت ہوئی ہے، شاہ محمود قریشی کی ڈیڑھ درجن سے زائد وزرائے خارجہ سے ملاقات ہوئی ہے، ہم افغانستان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے،اتھارٹیز کے ساتھ قریبی رابطہ ضروری ہے تاکہ ہم ایک ایسی حکومت کی طرف آگے بڑھیں جو افغانستان میں تمام گروپوں اور لوگوں کے لئے قابل قبول ہو اور استحکام آ سکے۔ بھارت ہماری ان کوششوں پر کیوں تنقید کر رہا ہے؟۔بھارت کا افغانستان سے ایک انچ بارڈرنہیں ملتا۔ بھارتی میڈیا کی شور سے تو ایسا لگتا ہے کہ افغانستان اس کا سب سے بڑا مسئلہ ہے،آپ اپنا کام کیجیے،

یو پی الیکشن آرہے ہیں آپ وہ لڑیں،آپ افغانستان پر توجہ کر کے کیوں بیٹھے ہیں، نہ تعلق آپ کا افغانستان سے تعلق تھا،ہے اورنہ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان کے حوالے سے ہماری پالیسی بڑی واضح ہے کہ وہاں پر استحکام نا چاہیے اور بھارت کا اس میں کوئی کردارنہیں ہے، بھارت کو جب بھی کرداردیا گیا انہوں نے افغانستان کی زمین کوپاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لئے استعمال کیا ہے اور یہ ہمیں قطعاً قبول نہیں۔ہم قطعی طور پر اس کی اجازت نہیں دیں گے کہ کوئی افغانستان کی سر زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری یہ کوشش رہی ہے او رمجیب الرحمان شامی صاحب بھی یہ زور دیتے رہے ہیں کہ حکومت کواپوزیشن سے روابط بنانے چاہئیں اوربات کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات پر بات چیت کی دعوت دی، الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال پر بات کرنے کیلئے اور کمیٹی میں نام دیں لیکن تین ماہ ہو گئے ہیں اپوزیشن کی طرف سے کوئی نام سپیکر کو مو صول نہیں ہوا، ہم نے انہیں کہا کہ الیکشن کیشن کے ممبران کے تقرر لئے نام دیں لیکن ابھی تک اپوزیشن کو سمجھ نہیں آرہی اور اسی طرح باقی کسی مسئلے پر بھی اپوزیشن کی کوئی رائے نہیں۔انہوں نے کہا کہ،شہبازشریف،بلا ول،مریم بی بی،فضل الرحمان ایک چوں چوں کا مربہ بن گیا ہے،ایک کی رائے اور، دوسرے اور تیسرے کی رائے کیا ہے کچھ پتہ نہیں، پارٹیوں کے اندرلڑائیاں جاری ہیں،مسلم لیگ(ن) میں ٹاس ہو رہا ہے کہ قیادت کون کر ے گا، ایک ہفتے قیادت شہباز شریف،اگلے ہفتے مریم بی بی اور پھر ٹاس ہوتا ہے کہ شاہد خاقان عباسی قیادت کریں پھر یہ کہا جاتا ہے
کہ نواز شریف قیادت کریں گے، حقیقت میں مسلم لیگ (ن) کے اندر لڑائی، جھگڑااورفساد جاری ہے،جب یہ طے ہوگا تویہ آگے بڑھیں گے، پی ڈی ایم کااتحاد پہلے ہی ٹوٹ چکا ہے، اپوزیشن کی طرف سے کوئی سنجیدہ بات سامنے نہیں آرہی ہے انتخابی اصلاحات،کوئی قانون سازی ہو اپوزیشن کی جانب سے سنجیدہ گفتگونہیں کی گئی لیکن ہم انتظار کرینگے۔صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے فواد چوہدری نے کہاکہ افغانستان کی صورتحال پردفترخارجہ بتاچکاہے،افغانستان میں سب کی مشاورت سے جو حکومت بنے گی ہم اسے سپورٹ کرتے ہیں،جہاں تک طالبان کو تسلیم کرنے کا معاملہ ہے تو ہم یہ فیصلہ تنہا نہیں کرنا چاہتے،ہم خطے اور عالمی طاقتوں کے ساتھ آگے بڑھیں گے،افغانستان کے استحکام کے لئے جو کچھ ہوا وہ ہم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے حکمت عملی اپنائی ہے اور آج بھارت افغانستان میں اربوں ڈالرز لگا کر بھی تنہا ہے، بھارت کے ٹیکس دہندگان کو یہ پوچھنا چاہیے کہ انوں نے جو پیسہ نریندرمودی کو دیا ہے وہ پیسہ افغانستان میں کیوں ضائع کیا گیا،لوک سبھا کے لوگ اگر آپ بھارت کے عوام کے حقیقی نمائندہ ہیں تو آپ بھارت کی حکومت سے پوچھیں کہ اربوں ڈالرز جو بھارت کے غریبوں پر لگنے چاہئیں وہ افغانستان میں کیوں ضائع کئے گئے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں حکومت سازی ہمارا کام نہیں کہ ہم انہیں بتائیں بلکہ یہ افغانستان کی عوام کا کام ہے۔

جس طرح دوسرے ممالک کا کردار ہے اسی طرح خطے کی طاقت کی حیثیت سے ہمارا بھی ایک کردارہے جیسے ترکی،روس اور چین کا کردار ہے جیسے ایران کا کردار ہے ہمارا کردا ر ان سے کچھ زیادہ ہے کیونکہ ہماری 2700کلومیٹرطویل سرحد افغانستان کے ساتھ ملتی ہے، ہم صرف افغانستان کے استحکام کیلئے اپنا کردار اداکریں گے۔انہوں نے سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی کی تجویز کو سراہتے ہوئے کہا کہ حریت لیڈر سید علی گیلانی کی سری نگر ہائی وے پر یادگار تعمیر کرنے کے لئے حکومت کو تجویز دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹرعبد القدیر خان علیل ہیں،ہم سب ان کی جلد صحتیابی کے لئے دعا گو ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *