پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سی این جی پٹرول سے مہنگی ہونے کا امکان

آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنما غیاث پراچہ نے کہا ہے کہ مہنگی ایل این جی کی خریداری کے اثرات کی وجہ سے سی این جی کی قیمت میں 28روپے فی کلوتک اضافے کاامکان۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پنجاب میں سی این جی کی قیمت میں تقریبا 18روپے لیٹراور سندھ میں تقریبا 28روپے کلو تک اضافہ متوقع ہے جس سے کنزیومر اسکی خریداری بند کر دینگے اور یہ

صنعت دیوالیہ ہو جائے گی اور اس سے وابستہ لاکھوں لوگ بے روزگار ہو جائیں گے۔ روپے کے مقابلہ میں ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ ایل این جی پر سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے اوراگر حکومت نے سی این جی کی قیمتوں کے حوالے سے فوری فیصلہ نہ کیا تو اوگرا کی جانب سے قیمت میں اضافہ کے نوٹیفیکیشن کے بعد پنجاب میں سی این جی کی قیمت

تقریبا 125روپے لیٹر اور سندھ میں تقریبا 192روپے لیٹر تک پہنچ سکتی ہے جو کہ نا صرف سی این جی انڈسٹری کے لئے تباہی کا سبب بنے گا بلکہ ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آجائے گا۔انھوں نے کہا کہ آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے وفد نے اعلی حکام سے ملاقات کر کے ان سے درخواست کی ہے کہ سی این جی کی قیمت پٹرول سے مہنگی ہوجانے پر پنجاب اور سندھ میں سی این جی

اسٹیشنز مکمل طور پر بند ہوجائیں گے، 450ارب روپے کی سرمایہ کاری ڈوب جائے گی اور لاکھوں لوگوں کے بے روز گار ہوجائیں گے اس لئے ہمارے مسائل پر توجہ دی جائے۔دیگر شعبوں کو اربوں روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے جس سے حکومت پر بوجھ چار گنا بڑھ گیا ہے اور سی این جی مہنگی کرنا عوام سے زیادتی ہے۔پٹرول پر لیوی کو صفر کر دیا گیا ہے،سیلز ٹیکس کو بھی کم کر دیا گیا

ہے، ایل پی جی پر بھی ٹیکس کم کر دئیے گئے ہیں مگر سی این جی پر ٹیکس بڑھا دئیے گئے ہیں جو عجیب منطق ہے۔ مہنگی سی این جی سے ٹرانسپورٹ کے کرائے میں بے پناہ اضافہ ہوجائے گا جس سے ہر چیز مہنگی ہو جائے گی اورعام آدمی پر بوجھ بڑھ جائے گا۔انھوں نے کہا

کہ اگر حکومت نے اس مہنگائی کے طوفان کو روکنا ہے تو قیمتوں میں ناقابلِ برداشت اضافے کے تدارک کے فوری اقدامات کرنا ہو ں گے۔اس سلسلے میں سی این جی ایسوسی ایشن کے رہنماں کے اجلاس جاری ہیں اور موجودہ صورت حال پر غور کیا جا رہا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *