کیا انٹرنیشنل بروکرز بلاول بھٹو کو وزیراعظم بنانے کے لیے حالات سازگار کررہے ہیں

نامور کالم نگار سید سردار احمد پیرزادہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔بینظیر بھٹو اپنے قیدی والد ذوالفقار علی بھٹو کے مصیبتوں کے دنوں میں سیاسی افق پر ظاہر ہوئیں۔ مقامی اور انٹرنیشنل سطح پر بینظیر بھٹو کو توجہ ملنے کی کچھ اہم وجوہات یہ تھیں کہ وہ ایک نوجوان خاتون سیاسی لیڈر تھیں،

وہ لبرل اور ماڈرن اِزم کی پہچان بن رہی تھیں، وہ اپنے مقتول والد ذوالفقار علی بھٹو کی مظلومیت کی سیاسی ہمدردیاں حاصل کرچکی تھیں، وہ اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کی طرح زرخیز سیاسی ذہن کی مالک تھیں اور سب سے اہم یہ کہ وہ اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کی طرح مغربی تعلیم یافتہ تھیں۔ جب بینظیر بھٹو سیاست میں سرگرم ہوئیں تو اُس وقت پاکستان کی سیاست میں ضیاء الحق کا مارشل لاء اپنا

عروج دیکھ چکا تھا اور واپسی کے سفر کا سامان باندھنے والا تھا۔ اس موقع پر منطقی تقاضوں کے مطابق کسی سیاسی لیڈر کو مارشل لاء کی جگہ سیاسی خلا پُر کرنا تھا۔ مقامی ایجنسیوں کے نزدیک بینظیر بھٹو اس معیار پر پورا اترتی تھیں جبکہ انٹرنیشنل ایجنسیاں بھی خاموشی سے بینظیر بھٹو کے حق میں شادیانے بجا رہی تھیں کیونکہ اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کی طرح وہ بھی لبرل اور ذہین ہونے

کے ساتھ ساتھ مغربی تعلیم یافتہ تھیں جو انٹرنیشنل بروکرز کو بہت سوٹ کرتا تھا۔ بینظیر بھٹو بھی اپنے والد کی طرح مقامی ایجنسیوں کے ہاتھ سے نکل کر انٹرنیشنل بروکرز کی محفل میں زیادہ اٹھنے بیٹھنے لگیں۔ انہیں وارننگ کے طور پر دو مرتبہ حکومت سے فارغ کیا گیا لیکن بینظیربھٹو کا انٹرنیشنل بروکرز کے ساتھ اوور کانفیڈنس انہیں زندگی سے دور کرگیا۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو اس

نکتے کو اوورلُک کرگئے کہ انٹرنیشنل بروکرز اپنے مفادات کے لیے ہمیشہ بہتر سے بہتر اور ایک سے دوسرے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ نواز شریف بھی جوانی میں ہی مقامی ایجنسیوں کی محبوبہ بن گئے اور وہ تمام لاڈ پیار حاصل کیے جو عاشق معشوقوں کے لیے فراہم کرسکتے ہیں۔ نواز شریف کی انٹرنیشنل بروکرز کے میرٹ پر کم پورا اترنے کی سب سے بڑی ڈس کوالی فکیشن یہ تھی کہ وہ

مغربی تعلیم یافتہ نہیں تھے۔ نواز شریف انٹرنیشنل بروکرز کے لسانی و تعلیمی تعصب کا آسانی سے نشانہ بنے رہے۔ نواز شریف نے جب سِول سپریمیسی کو سپر کرنے کی کوشش کی تو وہ مقامی ریڈلائن کراس کرگئے۔ انہیں نُکّرے لگانا زیادہ مشکل نہ تھا کیونکہ انٹرنیشنل بروکرز نواز شریف کی چین اور روس کی طرف شفٹ ہونے والی پالیسیوں سے پہلے ہی نالاں تھے۔ دوسرا یہ کہ وہ مغربی تعلیم یافتہ

نہ ہونے کے باعث ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کی طرح انٹرنیشنل بروکرز کے کلچر فیلو نہ تھے۔ نواز شریف کا انجام بھی اب اکیلے بیٹھ کر یادوں کے خونی منظر دیکھنے جیسا ہی لگتا ہے۔ ہم نے یہ جملہ اکثر سنا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ پاکستانی سیاست میں تاریخ بہت جلدی جلدی اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ نوجوان بلاول بھٹو کو جس طرح سیاست میں اتارا گیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں

ہے۔ البتہ انہیں جس طرح میڈیا پر مشہور کیا جارہا ہے اور انہیں ایک دانشور سیاست دان کے طور پر پیش کیا جارہا ہے وہ فی الحال پوشیدہ ہے اور کچھ سوال لیے ہوئے ہے۔ مثلاً یہ کہ ہماری سیاست میں مقامی طاقتوروں کے بغیر کوئی مشہور نہیں ہو سکتا۔ بظاہر پیپلز پارٹی نیب اور عمران خان کے ریڈار پر سرخ نکتے کی مانند ہے لیکن بلاول بھٹو کا بڑھ چڑھ کر میڈیا پر چڑھے رہنا کیا کسی خاص نُکّر
کی مستقبل کی منصوبہ بندی کا پارٹ ہے؟ بلاول بھٹو بھی اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو اور والدہ بینظیر بھٹو کی طرح مغربی تعلیم یافتہ ہیں۔ یہ کوالی فکیشن انٹرنیشنل بروکرز کو بہت سوٹ کرتی ہے۔ کیا انٹرنیشنل بروکرز بھی مستقبل میں بلاول بھٹو کے حق میں اپنا وزن ڈالنے کے لیے تیار ہورہے ہیں؟

اگر بلاول بھٹو کے حوالے سے یہ سب کچھ درست ہوا تو 2013ء کے بعد عوام کو اتنی سیاسی ذہنی اذیت دینے اور اتنے اکھاڑ پچھاڑ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اور اگر بلاول بھٹو کے حوالے سے یہ سب کچھ درست ہوا تو کیا پاکستان سیاست کے اعتبار سے واپس پچاس کی دہائی میں جاکھڑا نہیں ہوگا؟

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *