گزشتہ ایک سال میں گھی کی قیمتوں میں 80 فیصد ،دالوں کی قیمتوں میں 40 سے 50 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا،وزیر خزانہ شوکت ترین کا اعتراف

سینٹر طلحہ محمود کی صدارت میں قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چئیرمین ایف بی آر کی عدم شرکت پر چئیرمین کمیٹی کا اظہار برمی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ چئیرمین ایف بی آر ای سی سی اجلاس میں شریک تھے آئیں گے جس پر چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ خزانہ کمیٹی کا طریقہ کار ہے چئیرمین ایف بی آر کو آگاہ کرنا چاہے وزیر خارجہ خزانہ شوکت ترین نے اعتراف کیا کہ ملک میں

گزشتہ ایک سال میں گھی کی قیمتوں میں 80 افیصد اضافہ ہوا دالوں کی قیمتوں میں 40 سے 50 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیاوزیر خزانہ شوکت ترین نے کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ہماری کوشش تھی اس سال جی ڈی پی کو 5 تک لے جاتے رواں سال ہماری گروتھ کی شرح 4 فیصد تک ہے افغانستان کی صورتحال نے اچانک سے غیر متوقع صورتحال پیدا کر دی ہے ہمارا تھنک ٹینک
اس ساری صورتحال کو مسلسل مانٹیر کر رہاہے،وزیر خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ افغانستان کو تقریباً ساڈھے دس ارب ڈالر کی امداد بند ہو گئی ہے پاکستان کی افغانستان کے ساتھ تجارت شاید بڑھ جائے ابھی تو بہت سے ممالک کو ہماری افغانستان سے ڈیل پر اعتراض نہیں پاکستان میں ابھی افغانستان معاملے پر غیر یقینی صورتحال ہے آنے والے دنوں میں حالات کا پتہ چلے گا کہ معیشت کس سمت جائے

گی وزیر خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ 10 اکتوبر تک پہلے کوارٹر کی کارکردگی سے کمیٹی کو آگا کروں گا ساڑھے چار سو ملین ڈالر ہمیں ویکسین کیلئے فراہم کرنا پڑاساڈھے چار سو ملین ڈالر میں سے عالمی اداروں سے رقم ملی اگست میں امپورٹ بل میں اضافہ ہوا ہے جو گروتھ پر اثر انداز ہوگا شوکت ترین نے کمیٹی کو بتایا کہ ٹیکسٹائل سمیت تمام آئٹمز کا معمول میں جائزہ لیتے ہیں ہمارا سادہ مقصد ہے کہ ہماری جی ڈی پی میں مستقل مزاجی براقرار رہے پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام میں شامل ہیپاکستان کی معیشت ترقی کررہی ہیابھی 4 بلین ڈالر کا بجٹ خسارہ دکھایا گیا ہے ترسیلات زر
2.7 بلین ڈالر کی سطح پر ہیں ہماری ایکسپورٹ آف گڈز ساڑھے اکتیس بلین ہونگی مستقبل میں ہماری ایکسپورٹس 37 سے 38 بلین تک پہنچ جائیں گی ہمیں برآمدات پر مسائل کا سامنا ہے برآمدات کے مسلسل بڑھنے کا جائزہ لے رہے ہیں انکم ٹیکس سیل ٹیکس اور کسٹم ٹیکس میں چگزشتہ سال کے مقابلے میں 42 سے 46 فیصد کا اضافہ ہوا شوکت ترین نے کمیٹی کو بتایا کہ سیلز ٹیکس انکم ٹیکس اور

کسٹم ٹیکس میں بہتری آ رہی ہے ہمارے پاس 15 ملین پی او ایس کا ڈیٹا ہے جو غیر رجسٹرڈ ہیں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے زریعے ان کو سسٹم میں لایا جائے گا اگر ٹیکس پھر بھی نہیں دیں گے تو تھرڈ پارٹی آڈٹ کے زریعے حساب ہوگا،وزیر خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ ایکسچینج ریٹ معاملہ اسٹیٹ بینک کا ہے ڈالر کے اتار چڑھاؤ پر گورنر اسٹیٹ بینک بہتر بتا سکیں گے ڈالر کی موجودہ سطح ہمارے تخمینوں

کے عین مطابق ہے بطور وزیر خزانہ میری خواہش ہے کہ ڈالر ریٹ سے درآمدات اور برآمدات متاثر نہ ہوں کامیاب جوان پروگرام اگست میں لانچ کرنا تھاآئی ایم ایف سے اس معاملے پر مذاکرات ہوئے ہیں رواں ماہ کے اختتام پر کامیاب جوان پروگرام پانچ کریں گے کے پی کے اور بلوچستان میں سب سے پہلے کامیاب پروگرام لانچ کرنے کی تجویز ہے ہم غریبوں کیلئے اقدامات کریں گے غریب کی ترقی
ضروری ہے وزیر خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ سال 2018, 19 میں روپے کی قدر گرائی گئی جس کا اثر معیشت پر ہوا ملک میں اس وقت مہنگائی کی سطح 8.4 فیصد فوڈ انفلیشن ساڈھے دس فیصد پر ہے فوڈ پرائس ہمارا سب بڑا مسئلہ ہے پوری دنیا میں ایک ایسا وقت آتا ہے جب خوراک کے آئٹمز کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے اب ہم اس وقت سے گزر رہے ہیں لیکن اس کو کنٹرول کریں گے گزشتہ ایک

سال میں گھی کی قیمتوں میں 80 افیصد اضافہ ہوا دالوں کی قیمتوں میں 40 سے 50 فیصد کا اضافہ ہوا یہ وہ آئٹمز ہیں جو ہم باہر سے منگواتے ہیں پیٹرولیم مصنوعات پر پوری کوشش کی کہ لیوی کے زریعے رلیف دیا جائیںباہر سے منگوا کر جو آئٹمز فروخت کررہے ہیں ان کی قیمتوں میں اضافہ ہے جیکب آباد میں پیاز اگانے والے کو چار روپے ملتے ہیں اور یہاں خریدنے والا 30 روپے ادا

کرتاہے،وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ مڈل مین کا کردار ختم کریں گے جو مہنگائی کاسبب ہے ایف بی آر کے ڈیٹا ایک کرنے کے حوالے سے شوکت ترین نے کمیٹی کو بتایا کہ ایف بی آر کا ڈیٹا تین دن کیلئے ہیک رہا ہے سات دن کے اندر ڈیٹا ریسٹور اصل حالت میں ہو چکا تھا ہیکرز کی رسائی ونڈوز تک ہوئی ڈیٹا تک نہیں پہنچ سکے اگر ڈیٹا تک رسائی ہو جاتی تو سارا ڈیٹا چوری ہوجاتا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *