”روزانہ 4دانے چلغوزہ کھانے پر جسم میں تبدیلی دیکھیں شوگر، مردانہ کمزوری ، موٹاپا،ڈپریشن،دمہ ،جوڑوں کا درد“

سردی کے موسم میں جہاں لوگ ٹھنڈ سے محذوز ہوتے ہیں وہاں خشک میوہ جات سے

بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یوں تو ڈرائے فروٹس پورا سال دستیاب ہوتے ہیں ۔لیکن سردیوں میں اس کا استعمال بہت ہی خوش نما ہوتا ہے ۔ آج ہم جس میوہ کی بات کرنے جارہے ہیں وہ ہے چلغوزہ ۔ اس کے حیران کن طبی فوائد ہیں۔ چلغوزہ ان خشک میوہ جات میں سے جن کے کافی فوائد ہیں۔ چلغوزہ اس قدر مہنگا کیوں ہے اس حوالے سے بھی بات کریں۔ چلغوزے کے نمایاں طبی فائدے کیا ہیں اس کے بعد اس کے مہنگاہونے کے فوائد بتاتے ہیں۔ یاد رہے کہ خشک چلغوزے میں آٹھ سے دس کلوریز 0.08گرام فائبر اور 0.024گرام کاربوہائیڈریٹ ، 0.42گرام پروٹین پایا جاتا ہے ۔ دوسرے خشک میوہ جات کے علاوہ چلغوزے کے فوائد بہت سے سامنے آتے ہیں جس کیوجہ سے اس کے قیمت میں بھی نمایاں اضافہ پایا جاتا ہے ۔

یہ کمزوری کو دور کرتا ہے اس کے کھانے بھو ک کی شدت میں کمی آتی ہے ۔ یا

د رہے کہ چلغوزے میں وٹامن بی ، سی ، ای ،اے ڈی کی صورت اینٹی آکسیڈنٹ موجود ہوتا ہے ۔ جو کہ جلد موجود خراب ہوجانے خلیات کو فعال کرکے سکن کو ہموار او ر خوبصورت بناتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بصارت کی مضبوطی بھی عطاء کرتا ہے ۔ قبض اور گیس بھی ختم کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ جس میں زہریلے معدے ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔چلغوزے میں پائے جانا والا فالک ایسیڈ خون میں کولیسٹرول کے لیول کو برقرار رکھتا ہے ۔

جس کی بنا کئی بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے ۔ یوں یہ جسم میں اضافے کے سبب

میں بھی مدد گار ثابت ہوتا ہے ۔ اس میں موجود وٹامن اے خون کو جمنے نہیں دیتا ۔ خون کو ہموار رکھتا ہے ۔ چلغوزہ کھانا اہم ہے ۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ چلغوزہ کے استعمال سے جگر اور گردوں کو طاقت ملتی ہے ۔ چلغوزہ کو ہمیشہ کھانا کھانے کے بعد ہی کھانا چاہیے ۔ چلغوزہ میں پایاجانے والا وٹامن ای سکن کیلئے اہم ثابت ہوتا ہے ۔ چلغوزہ سے تیل بھی بنایا جاتا ہے ۔ جو ذائقہ اور خوشبودار ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ تیل کاسمیٹکس ،کوکنگ اور سالاد میں بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ یہ تھے چلغوزہ کے حیران کن فوائد جوکہ حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ چلغوزے کو خریدنے کی طاقت کس کی ہوسکتی ہے کیونکہ بازار میں چھ ہزارکلو فروخت ہورہا ہے ۔ .

ایک وقت تھا کہ چلغوزہ اتنی مقدار میں پایا جاتا تھا کہ عام ریڑھیوں پر اس کے

ڈھیر لگے نظر آتے ہیں۔ اب مہنگے اتنے کہ غریب اس کو خریدنے کا سوچ ہی نہیں سکتا ۔ لیکن اس کی تجارت سے وابستہ افراد دو باتوں پر متفق ہیں ان میں سے ایک یہ چلغوزہ زیادہ تر باہر ایکسپورٹ ہورہا ہے ۔ اس کی پیداوار کا خشک سالی متاثر ہونا ہے ۔ چلغوزہ کے مہنگائی کے بارے کاروباری سے سوال کیا گیا جو کہ بیس سال خشک فروٹ کے کاربار سے وابستہ تھا اس کی سب سے بڑی وجہ ایکسپورٹ ہے ۔یہ زیادہ تر چین جاتے ہیں۔ انہیں یہ نہیں معلوم چین کیوں زیادہ جارہے ہیں۔ یہ ان کو کھاتے ہیں یا دوائی وغیرہ بناتے ہیں۔ یہ بات بھی حیران کن ہے کہ 1996 میں چلغوزہ ایک کلو ایک سو بیس روپے میں فروخت ہوتا ہے ۔ لیکن 2001کے بعد اس کی قیمت میں اچانک اضافہ ہوا اور فی کلو قیمت ایک ہزار سے بھی زیادہ ہوگئی ہے ۔ آج یہ چھ ہزار تک پہنچ چکی ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.